درسِ عبرت

Posted: February 28, 2015 by 786rafiq786 in Uncategorized

ایک مرتبہ حضرت بایزدید بسطامی رحمتہ اللّہ علیہ ایک راستے سے گزر رہے تھے،آپ کو راستے میں ایک کتّا مِلا آپ رحمتہ اللّہ علیہ نے کتّے کو دیکھ کر اپنا دامن سمیٹ لیا۔اس کتّے نے زبانِ حال سے کہا ” بایزید! آپ مجھ سے اپنا دامن کیوں بچا رہے ہو حالانکہ میں بھیگا ہُوا تو نہیں ہوں جو آپ کو ناپاکی کا خدشہ ہو۔مگر یہ جو آپ نے تکبّر کا اظہار کِیا ہے یہ تو سات سمندروں سے بھی پاک نہ ہوگا۔ ”
حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللّہ علیہ نے فرمایا! ہاں تم سچ کہتے ہو تمہارا تو ظاہر ناپاک ہے اور میرا باطن ناپاک ہے اِس لیے ہم دونوں کو ایک ساتھ رہنا چاہیے تاکہ میرا باطن بھی پاک ہو جائے۔
کتّے نے کہا! میرا اور آپ کا ساتھ رہنا ناممکن ہے کیونکہ میں مردود ہوں اور آپ مقبول بارگاہِ خدا عزو جل ہیں۔پھر میں اگلے دن کے لیے ایک ہڈی بھی جمع نہیں کرتا اور آپ لوگ ایک سال کا غلّہ جمع کرتے ہیں۔
اِدھر کتّا زبان حال سے آپ کو کہہ رہا ہے اُدھر آپ کی آنکھوں سے آنسوؤں کے سمندر بہنے لگے۔اپنے آپ کو مخاطب کر کے کہنے لگے ” افسوس! جب میں ایک کتّے کے ساتھ رہنے کے قابل نہیں تو مجھے اللّہ تعالیٰ کی قربت کیسے حاصل ہو سکتی ہے،اور پاک ہے وہ ذات جو بدترین مخلوق کی باتوں سے بہترین مخلوق کو عبرت کا سبق دیتا ہے۔
اولیاءاللّہ کی باتیں = 125

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s