علم الیقین ، عین الیقین ، حق الیقین by Jawad Ali

Posted: February 28, 2015 by 786rafiq786 in Uncategorized

علم کا معنی ہے جاننا ۔ یقین کا معنی ہے کسی ایک نقطہ پر جم جانا مکمل یکسوئی کے ساتھ ۔ اس (علم ) کی مثال یوں ہے کہ ایک گھڑا ہے ، دور پڑا ہے ۔ فقط یہ علم ہے کہ اس میں پانی ہے ۔ اس کو آنکھوں سے پاس جا کر نہیں دیکھا ۔ فقط علم کی حد تک ہے ۔ اس میں کوئی اور چیز ہو سکتی ہے ۔تو فقط جاننے کی حد تک معلوم ہونا ، یہ علم الیقین ہے کہ اس میں پانی ہے ۔اور جب نزدیک جا کراس کو آنکھوں سے دیکھ لیا کہ اس میں پانی ہے تو یہ عین الیقین بن گیا۔لیکن مکمل بات اب بھی نہیں کہ دیگر مائعات پانی سے مماثلت رکھتی ہیں کہ وہ پانی کی طرح ہوتی ہیں۔ مگر دیکھنے سے یہ پتہ چلا کہ کوئی مائع ہے اور پانی بھی ہو سکتا ہے ۔ لیکن جب اس کو چکھ لیا ، پھر مکمل یقین ہو گیا کہ یہ واقعتا پانی ہے ۔ اسے حق الیقین کہتے ہیں کہ یقین تو پہلے بھی تھا ، جاننے کی حد تک ۔ دیکھ کر بھی مکمل نہ ہوا ۔ مگر جب اس کو چکھ لیا ، ذائقہ محسوس ہو گیا ، جاننے کا حق ادا ہوا تو حق الیقین بن گیا ۔
جب مرشد کے متعلق طالب کے ذہن میں خیال پیدا ہوتا ہے تو یہ علم الیقین ہوا ۔ بارگاہِ مرشد میں حاضری سے عین الیقین ملتا ہے اور مطابقت کر کے اس کی محبت میں فنا ہو جاتا ہے تو جس کی محبت میں فنا ہو جائے تو اس ذات میں گم ہو کر اس کا مزہ چکھ لیتا ہے تو یہ حق الیقین ہوا ۔
اسی طرح احادیث اور سیرۃ الرسول سے آپ کے متعلق علم الیقین حاصل ہوتا ہے اور پھر توجۂ شیخ سے زیارت النبی ہوتی ہے تو عین الیقین بن جاتا ہے ۔ عین الیقین اُس پر بنتا ہے جو پڑھا اور دیکھا ہو ۔ پھر مثلِ سابق جیسا کہ پہلے وہ فنا فی الشیخ ہوا تھا ، اسی طرح وہ فنا فی الرسول ؐہو جاتا ہے اور پھر اس ذاتِ عالی کا فیضِ خاص اسے نصیب ہوتا ہے تو اس فیض کا مزہ چکھتا ہے تو اسے حق الیقین حاصل ہو جاتا ہے ۔ یعنی پڑھا ، دیکھا اور فیض نصیب ہوا ، وہ بھی ٹھیک ۔
اللہ کے متعلق جیسا کہ رسول نے فرمایا ، سن کر علم کی حد تک یقین ہوتا ہے ۔پھر جب طالب پہلی دونوں منازل طے کر کے مرشد و رسول میں فنا ہوجاتا ہے تو اس کو دیدارِ تعالیٰ بھی نصیب ہوتا ہے ۔ یہ عین الیقین بن جاتا ہے اور پھر جب فنا فی اللہ ہوتا ہے ، اپنی ذات کو ختم کر دیتا ہے اور اس کی ذات کا وجود اس پر وارد ہو جاتا ہے ، غالب ہو جاتا ہے تو اس طرح وہ اس کی محبت کا مزہ چکھتا ہے ، تو اس طرح اس کو حق الیقین نصیب ہوتا ہے اور وہ بقا کی منزل پا کر سب سے اعلیٰ منزل پر فائز ہو جاتا ہے ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s